» English » فارسی
» Français » العربية
» русский » اردو
 
صفحه اصلی > سربراہ  > سوانح حیات 

بسمہ تعالیٰ

ادارہ جامعۃ المصطفی)ص)العالمیہ کے  سربراہ

حضرت آیۃ اللہ اعرافی  کی سوانح حیات

  حضرت آیۃاللہ علی اعرافی   ۱۹۴۹؁ میں صوبہ یزد کے شہر "میبد " میں ایک علمی و متدین  گھرانے میں پیدا ہوے۔ان کے والد محترم آیۃ اللہ محمد ابراہیم اعرافی اس علاقے کے مشہور علماء اور حضرت امام خمینی کے قریبی دوستوں میں سے تھے ۔انہوں نے میبد کی عوام میں اسلامی بیداری کے حوالے سے  بہت اہم رول ادا کیا ہے ۔اس پارسا اور اور مجاہد عالم دین نے اسلامی انقلاب سے بہت پہلے وہاں نماز جمعہ قایم کی اور اسلحہ کے ساتھ نماز جمعہ کا خطبہ دیا کرتے تھے۔استاد اعرافی کی مادر گرامی اپنے زمانہ کی پاکدامن اور ایک مومنہ خاتون تھیں  نیز وہ آیۃ اللہ شیخ کاظم  کی دختر نیک اختر تھیں ۔

دواران تعلیم:

استاد اعرافی نے اپنی دنیوی تعلیم کا آغاز اپنے وطن سے کیا۔ ادبیات کے کچھ کلاس پڑھنے کے بعد ۱۹۶۰ ؁ میں آپ قم آگئے اور اپنی ابتدائی تعلیم کو آپ نے قم میں مکمل کیا ۔ دنیوی تعلیم کے  ساتھ ساتھ آپ نے  حوزہ کے بھی دروس شروع کردئے اوربہت ہی سرعت کے ساتھ مقدمات اور سطوح کے مرحلہ کو اختتمام کی منزل تک پہنچادیا  یہاں تک کہ  ۱۹۹۷؁ میں  قم کے بزرگ علماء کے  درس خارج میں رسائی حاصل کرلی ۔آپ نے اپنی حوزوی تعلیم کے دوران فلسفہ کے درس میں بھی شرکت کرنے سے با ز نہیں رہے اور فلسفہ کے شعبہ کو بھی کمال کے مرحلہ تک پہنچادیا ۔حتی  درس اخلاق کے اساتذہ  کی خدمت میں اپنی حاضری کو بھی یقینی بنایا ۔حوزوی تعلیم کے دوران عربی اور انگریزی زبان بھی سیکھی ٗ علم ریاضی  اور مغربی فلسفہ کے  شعبہ  میں بھی مطالعہ کو جاری رکھا ۔بہت ساری کتابیں جو اس وقت حوزہ میں رائج نہیں تھیں  ان سے بھی آشنائی حاصل کی ۔ دورہ تعلیم و تربیت جو حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کی ہماہنگٰی اور دونوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے  انیس میں  شرکت کی ،چھٹیوں کے دنوں میں تفسیر المیزان  ، ابن ابی الحدید کی شرح اور شرح نہج البلاغہ کا کامل مباحثہ کیا۔

آپ کے اساتذہ اور احباب

استاد اعرافی اپنی طالب علمی کے دور ان بہت سارے بزرگ اساتذہ  کے درس سے شرفیاب ہوئے ،انھوں نے  تفسیر، آیۃ اللہ

مشکینی سے پڑھی ،علم ہیئت میں  استاد حسن زادہ آملی کی شاگردی اختیار کی ، شہید صدر کی کتاب "فلسفتنا"و "اقتصادنا"کو آٰٓیۃ اللہ سید کاظم حائری سے پڑھا۔

فقہ و اصول کے درس خارج میں  جن بزرگ علماء کے محضر مبارک  سے شرف تلمذحاصل کیا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:

حضرت آیۃ اللہ العظمی حاج شیخ مرتضی حائری (۲) حضرت آیۃ اللہ العظمی فاضل لنکرانی ؒ(۳) حضرت آیۃ اللہ العظمی وحید خراسانی (حفظہ اللہ) (۴)حضرت آیۃ اللہ العظمی جواد تبریزی (قدس سرہ)(۵) حضرت آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ العالی) (۶)حضرت آیۃ اللہ العظمی  شبیر زنجانی (حفظہ اللہ) اسفار اربعہ،برہان شفا،فصوص الحکم اور تمہید القواعد جیسی سنگین کتابوں کو حضرت آیۃ اللہ العظمی جواد آملی خدمت میں حاصل کیا اور اسفار کی بعض بحثیں آیۃ اللہ مطہری سے پڑھی ہیں فلسفہ کے شعبہ میں آیۃ اللہ مصباح سے کسب فیض کیا ہے۔

استاد اعرافی  کی اپنی تعلیم کے دوران جن بہت سارے اساتذہ  اور افاضل علماء سے دوستی  اور علمی مباحثہ رہا ،منجملہ ان میں سے حجۃ الاسلام المسلمین  محمد علی مدرسی یزدی، حجۃ الاسلام المسلمین   محمد کاظم بہرامی، حجۃ الاسلام المسلمین  علی نقی فقیہی ، حجۃ الاسلام المسلمین  محمد بہشتی سر فہرست ہیں۔

آپ کی علمی ثقافتی  فعالیت

استاد اعرافی نے اس طویل عرصہ میں علم و ثقافت کے شعبہ میں بہت ساری فعالیتیں انجام دی ہیں۔انہوں نے سطوح کی بہت  ساری کتابوں کا درس دیا ہے اور ایک عرصہ تک "اسفار اربعہ"اور "فقہ التربیہ" کے عنوان سے درس خارج کی بھی تدریس کرتے رہے ہیں،آپ کے درس کی خصوصیت اور آپ کی تدریس کا یہ امتیاز رہا ہے  آپ قدماء کتابوں کو دور حاضر کے مباحث و نظریات سے تطبیق دیتے ہیں ۔تربیتی علوم کے شعبہ میں بہت ساری کتابیں آپ کی سعی اور آپ کی وجہ سے وجودمیں آئیں  ہیں۔منجملہ ان کے اسماء یہ ہیں :

۱۔تعللیم و تربیت کا فلسفہ/تالیف

۲۔ اسلام کی نطر میں تعلیم و تربیت

۳۔در باب استعداد آدمی

۴۔مسلمان دانشوروں کی تربیتی رائے

۵۔پیغمبراکرم اور اہلبیت کی تربیتی سیرت

 ۶۔نطام تربیت اسلامی۳جلد

۷۔نقش تربیت معلم/زیر سرپرستی

۸۔تربیتی علوم ااور اسلام کا معرفتی ربط

۹۔فقہی،تربیتی،نیز قضا و شہادت کے دروس

۱۰۔مقالات اور تقریروں کا مجموعہ

علمی مقالے

۱۔تعلیم و تربیت ابن خلدون کی نظر میں/مجلہ نور  ۱۹۹۰؁

۲۔حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے پر نقد و نظر/فصلنامہ دانشگاہ اسلامی ۱۹۹۷ ؁

۳۔جوانوں کے مسائل اور انکی مشکلات پر ایک نظر/موسسہ امام خمینیؒ  ۱۹۹۷؁

۴۔دینی مشورہ شناسی کا مفہوم  /موسسہ امام خمینی  ؒ ۱۹۹۸؁

۵۔آخر کی دو دہائیوں میں حوزہ اور یونیورسٹٰی کے اتحاد پر تبصرہ اور اس پر تنقید/مجموعہ مقالات کتاب دوم حوزہ و دانشگاہ ۱۹۶۔دینی مشورہ شناسی کا مطلب/فصلنامہ حوزہ و دانشگاہ ۱۹۹۸؁

۷۔دین اور علوم انسانی کی مناسبت/ فصلنامہ حوزہ و دانشگاہ ۱۹۹۸؁

۸۔آسیب شناسی اور اسکی  شناخت کی روش اور راہ حل/ فصلنامہ حوزہ و دانشگاہ ۱۹۹۹؁

۹۔تعلیم و تربیت ک استنباطے آداب اور اسکے استنباط کا طریقہ/کتاب اول تربیت اسلامی ۱۹۹۹؁

۱۰۔تربیت امام علی کی گفتار و سیرت کی روشنی میں/پیام پژوہش ۲۰۰۱؁

۱۱۔حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے درمیان تعامل اور تحقیق کا اثر/ پیام پژوہش ۲۰۰۱؁

۱۲۔اسلام کے نقطہ نظر سے ذہنی اطمینان/موسسہ امام خمینی۲۰۰۲؁

۱۳۔ حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے درمیان وحدت (بیم و رجا)/ پژوہش حوزہ۲۰۰۲؁

۱۴۔ حوزہ  اور یونیورسٹی اور اقتصادی میلان/پگاہ حوزہ ۲۰۰۰؁

۱۵۔ حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کا اتحاد کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے/خردنامہ ہمشہری۲۰۰۰؁

۱۶۔حوزہ اور یونیورسٹی ناوابستگی سے وابستگی تک/پگاہ حوزہ۲۰۰۰؁

۱۷۔حوزوی(دینی)تحقیق اسکی ظرافت اور اسکو درپیش خطرات/پگاہ حوزہ۲۰۰۰؁

۱۸۔دین پردازی کے نظریہ کے سلسلہ میں ابتدائی قدم/ پگاہ حوزہ۲۰۰۲؁

۱۹۔حوزہ علمیہ کا عالمی دائرہ/پگاہ حوزہ۲۰۰۲؁

۲۰۔آزادی بیان کی حدیں/شورای عالی انقلاب

علمی قدردانی(ایوارڈ)

۱۔انکی کتاب" تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں مسلمان دانشوروں کی رای اور انکے بنیادی نظریات "ج۱ ۱۹۹۷ میں حوزہ علمیہ کی سب سے اچھی کتاب تسلیم کی گئی۔

۲۔کتاب"تربیت فرزند پیغمبر اکرم اور اہلبیت کی تربیتی سیرت"کی پہلی جلد  ۲۰۰۰؁  میں ملک گیر پیمانہ پر مذہبی محققین کی تیسری کانفرنس میں مستنند و منتخب قرار پائی۔

۳۔کتاب"تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں مسلمان دانشوروں کی رای اور انکے بنیادی نظریات" کی تیسری  جلد کو "انتخاب کتاب "کے حوالے سے اسلامی جمہور ایراان کی اکیسویں کانفرنس ۲۰۰۲؁ میں پہلا مرتبہ ملا۔

آپ کے عہدے اور ذمہ  داریاں

آپ کی سابقہ کارکردگی اور آپ کے عہدے مناصب کو ذیل کی عبارت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے

۱۔مرکز جہانی علوم اسلامی کے سربراہ اعلیٰ اور اسکی بنیادی کمیٹی کے اہم رکن

۲۔انجمن تہذیب و ثقافت  اور وزارت علوم نیز تحقیق و ٹکنالوجی کے شعبہ کی رکنیت۔

۳۔قم کے حوزہ علمیہ اورقم یونیورسٹی کے تحقیقی  شعبہ کے سربراہ

۴۔اسلامی نشریات اور تہذیب و ثقافت کی عمومی انجمن کے رکن

۵۔موسسہ امام خمینی ؒ کے تربیتی علوم کے شعبہ کے سکریٹری

۶۔انٹرنیشنل ادارہ  "ہدی"کے بنیادی کمیٹی کے اہم رکن

۷۔حوزہ علمیہ کے تحقیقی شعبہ کے معاون

۸۔شہر میبد کے انٹر کالج کے شعبہ علوم قرآن کی بنیادی کمیٹی کے سربراہ

۹۔ملک گیر دینی تحقیقات کانفرنس  کے اساسی رکن

۱۰۔حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی ،اقتصادی ترقی اور تربیت اسلامی جیسی کمیٹیوں کے سکریٹری۔

۱۱۔حوزہ علمیہ قم کے دفتر تبلیغات کے بنیادی رکن

۱۲۔ملک گیر علمی تحقیقاتی انجمن کے رکن

۱۳۔ادارہ سازمان مدارس خارج از کشور  کے اساسی و بنیادی رکن

استاد اعرافی نے مدتوں  ملک بہت ساری یونیورسٹیوں  اور کالجوں میں درس دیا ہے اور اس راستہ کے ذریعہ بہت سے اچھے اور برجستہ شاگرد تربیت کئے ہیں۔

سیاسی فعالیت

استاد اعرافی نے مدتوں سیاست کے میدان میں بہت ساری فعالیت  انجام دی ہے وہ ایسے عالم اور مجاہد باپ کے بیٹے تھے کہ جنہوں نے امام خمینی کا انکی انقلابی تحریک میں ساتھ دیا بہت سارے ایسے شعبہ

کہ جسکا ذکر پہلے گذرچکا ہے اس میں سیاسی فعالیت انجام دی اور انقلاب اسلامی آرزوں کو شائستہ طریقے سے تحقق بخشا نیز وہ ۱۹۹۱؁ میں مقام معظم رہبری حضرت آیۃاللہ خامنہ ای کے حکم سے شہر میبد  کے امام جمعہ و جماعت مقرر ہوئے۔