» English » فارسی
» Français » العربية
» русский » اردو
 
صفحه اصلی >  نیوز آرکائیو 


  چاپ        ارسال به دوست

آیت اللہ اعرافی کی تیونسی یونیورسٹیوں کے معلّمین پر مشتمل نمائندہ وفد سے ملاقات میں تاکید : تیونس کی یونیورسٹیاں اسلام کی جانب بازگشت کا سفر طے کر رہی ہیں

 

گروہ خبر : تیونس کی یونیورسٹیوں سے تعلّق رکھنے والے اساتذہ اور اہل ثقافت پر مشتمل نمائندہ وفد نے المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ کیا اور اس موقع پر آیت اللہ اعرافی کے ساتھ ملاقات و تبادلہ خیال بھی کیا ۔

المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے مرکز برائے خبر و اطلاع رسانی کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ اعرافی نے مہمانوں کا استقبال کرنے کے بعد اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام کا موجب قرار دیا اور کہا : "تیونس میں اسلامی تحریک کے آغاز سے ہم مسلسل تیونسی عوام کی کامیابی کے لیے دعا کرتے رہے اور اب آپ سمیت پوری تیونسی ملت کو اس عظیم کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔

المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ نے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے دنیا میں اسلامی علوم کا قلعہ ہونے کے اعتبار سے قم کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا : "اس وقت قم میں دو سو سے زیادہ تعلیمی اور حوزوی مرکز سرگرم عمل ہیں کہ المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا شمار یہاں کے عظیم ترین تعلیمی مراکز میں ہوتا ہے "۔

انہوں نے مزید کہا : " حال حاضر میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے ۲۵ ہزار کے لگ بھگ طلبہ ایران اور بیرون ایران میں المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیر سایہ بی ۔ اے کی سطح سے لے کر ڈاکٹریٹ کے اعلیٰ تعلیمی مرحلے تک حوزوی اور دانشگاہی نظام کے تحت تعلیم حاصل کر رہے ہیں" ۔

اسی طرح آیت اللہ اعرافی نے مختلف زبانوں میں دو ہزار کتب کی اشاعت کا بھی خصوصیت سے ذکر کیا اور انکشاف کیا : " اب المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی "ہر دن ایک کتاب" کی اوسط سے کتب شایع کر رہی ہے "۔

المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ نے وحدت کی حفاظت اور مذہبی ، قومیتی اور ۔۔۔۔ مسائل سے پرہیز کو یونیورسٹی کی اصلی ترین پالیسی قرار دیتے ہوئے خیال ظاہر کیا : " المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی نے اس تقریبی نگاہ کو امام خمینی(رہ) اور ایران کے اسلامی انقلاب سے حاصل کیا ہے اور اب بھی المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایسے بہت سے مدارس تاسیس کیے گئے ہیں کہ جو غیر شیعہ طلبہ کے لیے ہیں اور تمام مضامین کی تدریس میں ہمارا زاویہ نگاہ اسلامی مذاہب کا تقابلی جائزہ لینا ہوتا ہے "۔

انہوں نے عالم اسلام کے تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : " المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی تمام تر توجہ اسلامی تمدن کی از سر نو پیدائش پر مرکوز ہے چونکہ ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ اسلام ایک ایسی گراں بہا میراث رکھتا ہے کہ جو عصر حاضر میں زندگی بشر کی تمام تر ضروریات پوری کر سکتی ہے "۔

آیت اللہ اعرافی نے عقلی نگاہ اور اسلامی فلسفے پر توجہ مرکوز کرنے کو حوزہ علمیہ اور المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی بنیادی خصوصیات میں سے قرار دیتے ہوئے خیال ظاہر کیا : " اہل مغرب کی جانب سے بالخصوص رونسانس کے بعد اسلام پر فلسفی اعتراضات کی بوچھاڑ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مغربی فلسفے کا توڑ کرنے کے لیے اسلامی فلسفے کو بروئے کار لانا حوزہ علمیہ کی بنیادی پالیسی قرار پایا تاکہ عقلی استدلالات کے سہارے اسلامی اور اعتقادی مباحث کا اثبات کیا جا سکے اور المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی بھی مغربی فلسفے کے حوالے سے اسی فلسفیانہ اور نقادانہ نگاہ پر اعتماد کرتے ہوئے حوزہ علمیہ کے شانہ بشانہ چل رہی ہے ۔

المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ نے فقہ ، فلسفہ ، عرفان وغیرہ جیسے علوم میں دسیوں تخصّصی کورسز پیش کرنے کو المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی ایک اہم کاوش قرار دیتے ہوئے کہا : "ہیومینٹیز از قبیل علم معاشیات ، علم سماجیات وغیرہ کو اسلامی بنانا المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی حائز اہمیت پالیسیوں میں سے ہے چونکہ ان میں سے زیادہ تر علوم غرب سے درآمد ہوئے ہیں اور بسا اوقات یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بالمقابل قرار پاتے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق آخر میں تیونسی وفد کے سربراہ اور تیونس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کمال عمران نے آیت اللہ اعرافی اور المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا : "المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے دورے سے ہمیں یہ موقع میسّر ہوا ہے کہ ہم تیونس کی یونیورسٹیوں کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے حوالے سے آپ کے تجربات سے استفادہ کریں "۔

انہوں نے الزّیتون جیسی اسلامی یونیورسٹیوں کی تاریخی قدمت کا ذکر کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا : "افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک تیونسی یونیورسٹیوں میں غربی اور غیر اسلامی طریقے سے تعلیم دی جاتی رہی ہے لیکن تیونس میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر ہمارا اور عوام کا مطالبہ یہی ہے کہ ایک مرتبہ پھر یونیورسٹیوں کو اسلامی طریقہ کار  کے مطابق چلایا جائے ۔

قابل ذکر ہے کہ وفد کے تمام اراکین نے المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تیونسی یونیورسٹیوں کے ساتھ المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے تعلیمی روابط (بالخصوص اسلامی معاشیات ، قرآن اور استشراق ۔۔۔ جیسے موضوعات میں) قائم کیے جانے کی درخواست کی جسے آیت اللہ اعرافی نے قبول کر لیا ۔

 


٠٧:٤٨ - 1391/03/24    /    شماره : ١٩١٦٧    /    تعداد نمایش : ١٥٩١



خروج