» English » فارسی
» Français » العربية
» русский » اردو
 
صفحه اصلی >  نیوز آرکائیو 


  چاپ        ارسال به دوست

المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیر اہتمام دنیا بھر کے مختلف ممالک میں حفظِ قرآن کی روشوں کا جائزہ

گروہ خبر : البانیہ ، نائیجیریا ، پاکستان ، ہندوستان ، بنگلہ دیش اور تاجکستان کے حفّاظ کرام نے المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی اور وزارت ارشاد کی مشترکہ نشست میں کہ جو قرآنی نمائش کے شعبہ قرآن و اسلامی ملّتوں کی ثقافتمیں منعقد ہوئی، اپنے اپنے ممالک میں حفظ قرآن کی روشوں سے متعلّق اظہار خیال کیا ۔

المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے مرکز برائے خبر و اطلاع رسانیکی رپورٹ کے مطابق "دنیا بھر کے ممالک میں حفظِ قرآن کی روش " کے عنوان سے یہ نشست المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی اور وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کی سلسلہ وار مشترکہ نشستوں میں سے ایک ہے اور اسے بیسویں بین الاقوامی قرآن کریم نمائش کے شعبہ "قرآن و اسلامی ملّتوں کی ثقافات" میں منعقد کیا گیا ۔

اس نشست میں قرآنی مقابلوں کے بین الاقوامی جج اور قرآن کریم کے حافظ حجّت الاسلام و المسلمین حاج ابو القاسم نے خصوصی شرکت کی اور حفظ قرآن کے طریقہ کار اور انداز پر روشنی ڈالی ۔ المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے فارغ التّحصیل اور زیر تعلیم چھ طلبہ جو خود بھی حافظ قرآن ہیں، نے اپنے اپنے ممالک میں حفظِ قرآن کے طریقہ کار سے متعلّق حاضرین کو بریفنگ دی ۔

اس نشست کی ابتدا میں المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی شعبہ قرآن و حدیث کے سربراہ حسین اسدی جو دیگر ممالک کے بعض سامعین پر مشتمل اس نشست کے میزبان بھی تھے ، نے مختصر گفتگو کے دوران اسلامی ملّتوں کے مابین حفظِ قرآن کی اہمیّت کو قرائت اور دیگر شعبوں سے بالاتر قرار دیا اور کہا : آئمہ ھدی (ع) کی روایات میں بھی قرآن کریم کی آیات مبارکہ حفظ کرنے کی تاکید ہے اور المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی نے اس اہم امر پر خصوصی توجّہ مبذول کی جس کی بدولت طلاب میں سے ۷۰۰ حفّاظ کرام کی تربیت کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ۔

انہوں نے مزید کہا : المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی نے حفظ قرآن کی تعلیم کے حوالے سے ایک جامع روش وضع کرنے کے لیے مختلف اسلامی ممالک کے اندر حفظ قرآن کی روشوں کو مورد مطالعہ قرار دیا ہے کہ جس کا مقصد ان میں سے بہترین روش کا انتخاب کرنا ہے اور اس نشست کا ہدف بھی مختلف ممالک میں حفظِ قرآن کے طریقہ کار سے متعلق تبادلہ خیال اور معلومات کا حصول ہے ۔

اس کے بعد البانیہ سے تعلّق رکھنے والے معلّم و فعّالِ قرآن يتمير چلا، نے بلقان کے خطّے اور سابقہ عثمانی سلطنت میں شامل ممالک مثلاً ترکی وغیرہ میں رائج حفظ قرآن کی ایک عجیب روش کا تذکرہ کیا ۔

اس روش کے مطابق حفظ کا طالب علم ابتدا میں ہر سپارے کا پہلا صفحہ حفظ کرتا ہے ، اس کے بعد ہر سپارے کے دوسرے صفحے کو حفظ کرایا جاتا ہے اور اسی انداز کو جاری رکھتے ہوئے طالب علم مکمّل قرآن کریم حفظ کرتا ہے ۔

اس کے بعد حجّت الاسلام و المسلمین سیّد مجتبی اختر رضوی نے برّصغیر پاک  و ہند میں حفظ کی روش کے بارے کہا : ہندوستان کی بیس فیصد آبادی مسلمان ہے کہ جو حفظ قرآن کو بہت زیادہ اہمیّت دیتی ہے ۔ ان کے یہاں حفظِ قرآن کا محور قرآن کریم کا متن ہے ۔ اہل سنّت کے دینی مراکز میں طالب علم پہلے دو سال اپنا مکمّل وقت حفظِ قرآن کے لیے مختصّ کرتے ہیں اور اس کے بعد انہیں دیگر علوم شروع کرنے کی اجازت ملتی ہے ۔

تاجکستان کے اسلام الدّین گدایف نے بتایا: کمیونزم کی نابودی کے بعد تاجکستان میں حفظ قرآن کے ذوق و شوق میں خاطر خواہ اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں بہت سے خاندانوں نے اپنے بچّے حفظ قرآن کے لیے ایران اور پاکستان روانہ کیے ۔

انہوں نے مزید کہا : تاجکستان میں حفظ قرآن کی ابتدا ۳۰ ویں ، ۲۹ویں اور ۲۸ ویں پارے سے ہوتی ہے اور اس کے بعد پہلا پارہ شروع کیا جاتا ہے ۔ طالب علم استاد کے سامنے اس قدر آیات کا تکرار کرتے ہیں کہ اچھی طرح حفظ ہو جائیں اور جب تک درست حفظ نہ ہو کلاس سے چھٹّی نہیں ملتی ۔

اس کے بعد نائیجیریا کے حافظ شیخ محمد شعیب نے ایسی تختیوں کے بارے بتایا کہ جن پر نائیجیریا کے بچّے حفظ سے پہلے ساری آیات لکھتے ہیں اور حفظ کرنے کے بعد کلاس کے وسط میں موجود حوض کے اندر اپنی تختیوں کو دھو ڈالتے ہیں تاکہ ان کی سیاہی ختم ہو جائے ۔

پاکستان کے نمائندے شیخ ابرار حسین نے یہاں قائم دینی مدارس کے بارے بتایا : ان مدارس میں حفّاظ نماز صبح سے دو گھنٹے قبل بیدار ہوتے ہیں اور ان آیات کا تکرار شروع کر دیتے ہیں کہ جنہیں رات سونے سے پہلے حفظ کر چکے تھے اور یہ حفّاظ صرف نماز اور کھانے کے لیے حفظ ترک کرتے ہیں اس کے علاوہ دن رات صرف قرآن ہی حفظ کرتے ہیں ۔

بنگلہ دیش کے محمّد عبد الحسنان نے ملک میں قائم کیے جانے والے حافظیہ مدارس کے بارے بتایا کہ حکومت ان مدارس کی سرپرستی نہیں کرتی اور انہیں عوامی امداد کے ذریعے ہی چلایا جاتا ہے ۔ بنگلہ دیش کی آبادی ۱۶۰ ملین ہے کہ جن میں سے ۹۰ فیصد مسلمان ہیں جبکہ یہاں حفّاظ کرام کی تعداد کئی ملین ہے ۔

اس نشست میں بین الاقوامی مقابلوں کے منصف اور حافظ قرآن کریم حجّت الاسلام و المسلمین حاج ابو القاسم نے حفظ قرآن کی روش اور طریقہ کار کے موضوع پر خطاب کیا اور کہا : ظاہری طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اسلامی ملّتوں میں حفظ قرآن کے متعدّد طریقے ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے ۔

انہوں نے حفظ قرآن کے حوالے سے تین کلیدی نکات یعنی لکھنا ، سننا اور تکرار کرنے کا ذکر کیا کہ جن میں تمام روشیں خلاصہ ہو جاتی ہیں اور کہا : البتّہ نائیجیریا اور سوڈان جیسے افریقی ممالک میں قرآن کریم کی آیات لکھنے پر زیادہ توجّہ مبذول کی جاتی ہے ۔

حاج ابو القاسم نے واضح کیا : دوسرا نکتہ تلقین اور تکرار ہے ۔ شاگرد استاد کے سامنے اس قدر تکرار کرتا ہے کہ استاد اسے کافی قرار دیتا ہے ۔ در حقیقت یہ تکرار اور مداومت ہی حفظ آیات کی موجب ہے ۔ ایران میں کتابت اور تکرار کی روش رائج نہیں ہے لیکن اکثر اسلامی ملّتیں اس کی پابند ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا : ایران میں انفرادی تکرار کی روش رائج ہے یعنی شاگرد حفظ کا سلسلہ آگے بڑھاتا ہے اور انفرادی سطح پر تکرار اور تمرین کرتا ہے اور آخر میں اپنے محفوظات استاد کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ ایران میں شعبہ حفظ کے  اساتذہ کی کمی کے باعث حفظ کی کلاسوں میں اس اندازِ حفظ کو بہترین قرار دیا جا سکتا ہے ۔

قرآن کریم کے اس حافظ کل نے مزید کہا : اگر ہم بہترین شیوہ حفظ کے متعلق کچھ کہنا چاہیں تو ہمیں تکرار ، سننے اور کتابت سے استفادہ کرنا ہو گا ۔ البتّہ لکھنے کا مرحلہ آخر میں رکھّا جائے ، حفظ کی ابتدا میں سننا اور تکرار کرنا زیادہ حائز اہمیّت ہے ۔

انہوں نے دن ، رات کے اوقات میں سے حفظ قرآن کے لیے مناسب وقت کے بارے مزید کہا : یہ جو پاکستان میں آذان صبح سے دو گھنٹے قبل کا وقت حفظ و تمرین کے لیے مختصّ کیا گیا ہے ، انتہائی درست اور حساب شدہ امر ہے ۔ روایات میں رات کے پہلے تین حصوں میں سونے پر تاکید ہے کہ جسے ہم ٹیلی وژن دیکھنے میں گزار دیتے ہیں جبکہ بہترین برکات سحری کے اوقات میں حاصل کی جا سکتی ہیں ۔

حجّت الاسلام و المسلمین حاج ابو القاسم نے واشگاف الفاظ میں کہا : بہتر یہ ہے کہ حفظ قرآن کے لیے پہلے قرآن کریم کی آخری سورتوں کو شروع کیا جائے چونکہ ان کا آہنگ بہت اچھا ہے اور انتہائی پُرمعنی ہیں لہٰذا بچوں اور نوجوانوں کے لیے انہیں حفظ کرنا بہت مناسب ہے ۔

حاج ابو القاسم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا : حفظ قران کے وقت اپنی پوری توجّہ مرکوز کرنا سرفہرست ہے ۔ اس سے سرعت و دقّت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اگر حفظ کے دوران آپ کے ذہن میں کوئی بات آئے تو خود کو یہ قول دیں کہ اس بات کے بارے بعد میں فکر کریں گے ابھی صرف حفظِ قرآن کا وقت ہے ۔


٠٨:٣٣ - 1391/05/15    /    شماره : ٢٠٦٧٢    /    تعداد نمایش : ١٤٧٠



خروج