» English » فارسی
» Français » العربية
» русский » اردو
 
صفحه اصلی > كورسز > پی ۔ ایچ ۔ ڈی  

۱۔ اسلامی فلسفہ
 

تعریف :

اسلامی فلسفہ ڈاکٹریٹ پروگرام اس علم کی مباحث کے حوالے سے اعلیٰ ترین تخصّصی تعلیم پر مشتمل ہے ۔ اس پروگرام میں طلبہ کرام ایک دوسرے سے مربوط تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیوں کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں اور کامیابی سے پروگرام مکمّل کرنے پر انہیں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری سے نوازا جاتا ہے ۔
 

عام اہداف :

متعلّقہ سبجیکٹ میں محقّق اور متخصّص کی تربیّت ؛

حوزوی اور دانشگاہی مراکز میں اعلیٰ سطح پر تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے قابل اساتذہ کی تربیّت ؛

مذکورہ سجبیکٹ میں علم و دانش کی حدود میں وسعت پیدا کرنا ؛

اسلامی فلسفہ میں مجتہدین اور اہل نظر شخصیات کی پرورش کے لیے ضروری مقدّمات فراہم کرنا ؛

*اغراض و مقاصد اور تعلیمی پالیسیاں :

طلبہ کرام کی اخلاقی اور روحانی بلند پروازی کا خصوصی خیال رکھنا ؛

تحقیقی مقالے کے علاوہ کم از کم 30%  کریڈٹس تحقیقاتی سرگرمیوں کے ساتھ مختصّ  کرنے سے طالب علم کی روح تحقیق میں مزید نکھار لانا ؛

اس سبجیکٹ میں دنیائے علم و دانش کی جدید ترین تحقیقات پر تسلّط رکھنے والے معاصر محقّقین کی پرورش کا اہتمام کرنا ؛

طالب علموں کو جدید ترین مبانی اور تحقیق کے ترقّی یافتہ فنون اور وسائل سے آگاہ کرنے کی راہ ہموار کرنا ؛

تدریس ، تبلیغ ، ترجمہ اور تصنیف کے شعبوں میں طلبہ کرام کی لیاقت و استعداد بڑھانے پر توجّہ دینا ؛

طلبہ کے اندر فلسفی بحثوں میں تنقید، مناظرے اور تازہ ترین شبہات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ مختلف فلسفی مکاتب فکر کا جائزہ لینے کی صلاحیت مستحکم کرنا ؛

اسلامی فلسفے میں جدّت طرازی اور نئے افکار و نظریات پیش کیے جانے کا اہتمام کرنا ؛

اہل بیت (ع) کے مبانی اور معارف پر زور دیتے ہوئے مذکورہ سبجیکٹ میں اسلامی مذاہب کے مابین تقریبی نقطہ نظر پر توجّہ مرکوز کرنا ؛

*کورس کی مدّت اور خاکہ :

اسلامی فلسفہ ڈاکٹریٹ پروگرام میں60  درسی کریڈٹس تجویز کیے گئے ہیں ۔

ڈاکٹریٹ کا دورانیہ تحقیقی مقالے کے بشمول زیادہ سے زیادہ5  تعلیمی سالوں پر محیط ہو گا ۔

ہر تھیوری کریڈٹ  16گھنٹوں اور پریکٹیکل کریڈٹ 32 گھنٹوں پر مشتمل ہو گا ۔

تھیسز کریڈٹس کے علاوہ ہر سیمسٹر میں  6 سے10   کریڈٹس پیش کیے جائیں گے ۔

۲۔ اسلامی کلام :

* تعریف :

اسلامی کلام ڈاکٹریٹ پروگرام اسلامی کلام کی مباحث میں اعلیٰ ترین تخصصّی تعلیم پر مشتمل ہے کہ جس میں شرکت کرنے والے طلبہ کرام مجموعی طور پر ایک دوسرے سے مربوط تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں اور کامیابی سے پروگرام مکمّل کرنے پر ان کے لیے ڈاکٹریٹ کی ڈگری جاری کر دی جاتی ہے ۔

عام اہداف :

اسلامی کلام میں اہل نظر ماہرین کی تربیّت ؛

حوزوی اور دانشگاہی مراکز میں اعلیٰ سطح پر تدریس کے لیے اساتذہ کی تربیّت ؛

اسلامی کلام کی حدود میں توسیع ؛

اسلامی کلام میں اہل نظر مبلّغین کی تربیّت ؛

اسلامی کلام کے حوالے سے کار آمد محققین کی تربیّت ؛

اغراض و مقاصد اور نافذ العمل تعلیمی پالیسیاں:

طلبہ کرام کی اخلاقی اور روحانی بلند پروازی پر توجّہ دینا ؛

تحقیقی مقالے کے علاوہ کم از کم 30%  کریڈٹس ریسرچ کے ساتھ مختصّ  کر کے طالب علم کی روح تحقیق پروان چڑھانے کا اہتمام کرنا ؛

اس سبجیکٹ میں دنیائے علم و دانش کی جدید ترین تحقیقات تک دسترس حاصل کرنے والے معاصر محقّقین کی پرورش کا اہتمام کرنا ؛

طالب علموں کو جدید ترین مبانی اور تحقیق کے ترقّی یافتہ فنون اور وسائل سے آگاہ کرنے کی راہ ہموار کرنا ؛

تدریس ، تبلیغ ، ترجمہ اور تصنیف کے شعبوں میں طلبہ کرام کی لیاقت و استعداد روز افزوں کرنے پر توجّہ دینا ؛

کلامی مباحث میں تنقید ، مناظرے اور تازہ ترین شبہات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ مختلف کلامی مکاتب فکر کا جائزہ لینے کی صلاحیت مستحکم کرنا ؛

اسلامی کلام میں جدّت طرازی اور نئے افکار و نظریات پیش کرنے کا اہتمام کرنا ؛

اہل بیت (ع) کے مبانی اور معارف پر زور دیتے ہوئے مذکورہ سبجیکٹ میں اسلامی مذاہب کے مابین تقریبی نقطہ نظر پر توجّہ مرکوز کرنا ؛

*کورس کی مدّت اور خاکہ :

اسلامی کلام ڈاکٹریٹ پروگرام حوزوی اور پیشگی مضامین کے بشمول58   درسی کریڈٹس کا مجموعہ ہے ۔

تحقیقی مقالے سمیت ڈاکٹریٹ کا کل دورانیہ زیادہ سے زیادہ 5 تعلیمی سالوں پر مشتمل ہو گا ۔

ہر تھیوری کریڈٹ 16گھنٹوں اور پریکٹیکل کریڈٹ 32 گھنٹوں کا ہو گا ۔

تھیسز کریڈٹس کے علاوہ ہر سیمسٹر میں  6 سے10   کریڈٹس کی کلاسیں منعقد ہوں گی ۔

اہمیّت اور ضرورت :

دین اور اعتقادی تعلیمات سے آشنائی کی ضرورت کسی شخص پر بھی پوشیدہ و مخفی نہیں ہے بالخصوص مخالفین کی جانب سے نت نئے شبہات اور حقّ و حقیقت کے متلاشیوں کو درپیش  اعتقادی سوالات کی بھرمار نے عصر حاضر کی امنگوں اور اس کی ضروریات کے مطابق دینی تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت میں چنداں اضافہ کر دیا ہے لہٰذا ان حقائق کے پیش نظر اسلامی کلام کی مستقل بنیادوں پر اعلیٰ سطحی تعلیم کا اہتمام ایک لازمی امر ہے تاکہ عقائد اور علم کلام میں تبحّر رکھنے والے  اہل فکر و نظر افراد کی تربیت کر کے عالم اسلام میں موجود علمی اور کلامی خلا کو پر کیا جا سکے ۔

کردار اور توانائی :

اس سبجیکٹ کے فارغ التّحصیل طلبہ اسلامی کلام میں گہرے مطالعے اور اعلیٰ تعلیم کی بدولت عقائد سے متعلّقہ مسائل میں محقّق ، مبلّغ اور استاد بن سکتے ہیں اور اس طرح سے کلامی شبہات و سوالات کا جواب دے کر حقیقی اسلامی ثقافت کی سربلندی اور دنیا بھر کے لوگوں کو اس سے آشنا کرنے کے حوالے سے مؤثر کردار ادا کریں گے۔

۳۔ علوم حدیث کا تقابلی مطالعہ

تعریف :

علوم حدیث کا تقابلی مطالعہ ڈاکٹریٹ پروگرام علم حدیث میں اعلیٰ ترین تعلیمی اور تخصّصی پروگرام ہے کہ جس کی نمایاں خصوصیّت اسلامی مذاہب پر تقابلی نگاہ ڈالنا ہے ۔ اس میں شرکت کرنے والے طلبہ کرام مجموعی طور پر ایک دوسرے سے منسلک تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں جبکہ کامیابی سے پروگرام مکمل کرنے پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا مستحق قرار دیا جاتا ہے ۔

عام اہداف :

علوم حدیث میں محقّق اور متخصّص کی تربیّت ؛

حوزوی اور دانشگاہی مراکز میں اعلیٰ سطحی تدریس کے لیے قابل اساتذہ کی تربیّت ؛

اسلامی کلام کی حدود میں توسیع ؛

حدیثی معارف کے حوالے سے اہل نظر مبلّغین کی تربیّت ؛

علوم حدیث پر تقابلی نگاہ رکھنے والے اہل فکر و نظر مجتہدین پروان چڑھانے کی راہ ہموار کرنا ؛

نافذ العمل تعلیمی پالیسیاں :

طلبہ کرام کی اخلاقی اور روحانی بلند پروازی پر توجّہ دینا ؛

تحقیقی مقالے کے علاوہ کم از کم 30%  کریڈٹس تحقیقاتی کام کے ساتھ مختصّ  کر کے طالب علم کی روح تحقیق مستحکم کرنے کا اہتمام کرنا ؛

اس سبجیکٹ میں دنیائے علم و دانش کی جدید ترین تحقیقات تک دسترس حاصل کرنے والے معاصر محقّقین کی پرورش کا اہتمام کرنا ؛

طالب علموں کو جدید ترین مبانی اور تحقیق کے ترقّی یافتہ فنون اور وسائل سے آگاہ کرنے کی راہ ہموار کرنا ؛

تدریس ، تبلیغ ، ترجمہ اور تصنیف کے شعبوں میں طلبہ کرام کی لیاقت و استعداد بڑھانے پر توجّہ دینا ؛

علوم حدیث میں تنقید ، مناظرے اور تازہ ترین شبہات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ مختلف کلامی مکاتب فکر کا جائزہ لینے کی صلاحیّت مستحکم کرنا ؛

اسلامی کلام میں جدّت طرازی اور تازہ افکار و نظریات کی پیدائش کا اہتمام کرنا ؛

اہل بیت (ع) کے مبانی اور معارف پر زور دیتے ہوئے مذکورہ سبجیکٹ میں اسلامی مذاہب کے مابین تقریبی نقطہ نظر پر توجّہ مرکوز کرنا ؛

۴۔ تفسیر کا تقابلی مطالعہ

* تعریف :

تفسیر کا تقابلی مطالعہ ڈاکٹریٹ پروگرام تفسیر قرآن کی روشنی میں اسلامی مذاہب کا تقابلی جائزہ لینے کے حوالے سے اعلیٰ ترین تخصّصی کورس ہے کہ جس میں طلبہ کرام مجموعی طور پر تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیوں کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں اور پروگرام کے اختتام پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا مستحق قرار دیا جاتا ہے ۔

عام اہداف :

متعلّقہ سبجیکٹ میں متخصّص اور محقّق کی تربیّت ؛

حوزوی اور دانشگاہی مراکز میں اعلیٰ سطح پر تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے استاد کی تربیّت ؛

مذکورہ سبجیکٹ میں علم و دانش کی حدود میں توسیع ؛

قرآنی معارف کے میدان میں اہل فکر و نظر مبلّغین کی تربیّت ؛

تفسیر کے تقابلی مطالعے میں مجتہد بننے کی راہ ہموار کرنا ؛

نافذ العمل تعلیمی پالیسیاں:

طلبہ کرام کی اخلاقی اور روحانی بلند پروازی پر توجّہ دینا ؛

تحقیقی مقالے کے علاوہ کم از کم 30%  کریڈٹس تحقیقاتی کام کے ساتھ مختصّ  کر کے طالب علم میں روح تحقیق مستحکم کرنے کا اہتمام کرنا ؛

اس سبجیکٹ میں دنیائے علم و دانش کی جدید ترین تحقیقات تک رسائی حاصل کرنے والے معاصر محقّقین کی پرورش کا اہتمام کرنا ؛

طالب علموں کو جدید ترین مبانی اور تحقیق کے ترقّی یافتہ فنون اور وسائل سے آگاہ کرنے کی راہ ہموار کرنا ؛

تدریس ، تبلیغ ، ترجمہ اور تصنیف کے شعبوں میں طلبہ کرام کی لیاقت و استعداد بڑھانے پر توجّہ دینا ؛

علم تفسیر میں تنقید ، مناظرے اور تازہ ترین شبہات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ مختلف تفسیری مکاتب کا جائزہ لینے کی صلاحیت مستحکم کرنا ؛

تفسیر میں جدّت طرازی اور تازہ ترین افکار و نظریات پیش کرنے کا اہتمام کرنا ؛

اہل بیت (ع) کے مبانی اور معارف پر زور دیتے ہوئے مذکورہ سبجیکٹ میں اسلامی مذاہب کے مابین تقریبی نقطہ نظر پر توجّہ مرکوز کرنا ؛

*کورس کی مدّت اور خاکہ :

تفسیر کا تقابلی مطالعہ ڈاکٹریٹ پروگرام میں کل60  درسی کریڈٹس شامل کیے گئے ہیں ۔

تحقیقی مقالے کے بشمول ڈاکٹریٹ کا کل دورانیہ زیادہ سے زیادہ 5 تعلیمی سالوں پر مشتمل ہو گا ۔

اس پروگرام میں طلبہ کرام 20 کریڈٹس کا تحقیقی مقالہ پیش کریں گے ۔

ہر تھیوری کریڈٹ16  گھنٹوں اور پریکٹیکل کریڈٹ 32 گھنٹوں پر مشتمل ہو گا ۔

تھیسز کریڈٹس کے علاوہ ہر سیمسٹر میں  6 سے10   کریڈٹس کی کلاسیں منعقد ہوں گی ۔

اہمیّت اور ضرورت :

متعدّد شیعہ و اہل سنّت تفسیریں انفرادی اور خاص مذہبی نقطہ نظر کے تحت آیات کی تفسیر پیش کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ سنّی تفاسیر کے علاوہ دیگر مذاہب کی تفسیروں میں بھی بہت زیادہ اختلافات ہیں اس پسِ منظر میں موردِ اختلاف آیات کا تقابلی جائزہ لینے کی ضرورت میں چندان اضافہ ہو جاتا ہے تاکہ ان آیات کی درست و عمیق تفسیر مکمل غیر جانبداری کے ساتھ روشن کی جا سکے اور بدیہی سی بات ہے کہ یہ اقدام مسلمانوں کی باہمی وحدت اور اتّحاد کی جانب ایک انتہائی اہم قدم ثابت ہو گا ۔

کردار اور توانائی :

تفسیر کا تقابلی مطالعہ پروگرام مکمل کرنے کے بعد طلبہ کرام شیعہ اور اہل سنّت تفسیری منابع پر تسلّط حاصل کر لیں گے اور زبان و بیانِ قرآن کے عنوان سے علم تفسیر کی جدید مباحث سے بھی کما حقّہ آشنا ہوں گے ۔ اسی طرح یہ طلاب شیعہ اور اہل سنّت علمی مراکز میں تدریس کے فرائض احسن طریقے سے انجام دے کر  اہل بیت (ع) کے تفسیری نقطہ نظر کا بھرپور دفاع بھی کریں گے۔