شعبہ تحقیقات کی نظارت اور اس کی نگراں کمیٹی

یادگاری جلسے:

الف: پروگراموں سے متعلق یادگاری جلسے

اس کا اطلاق ہر طرح کے یادگاری جلسہ یا کسی موضوع سے متعلق کانفرنس کے انعقاد پر ہوتا ہے، خواہ یہ جلسہ یا کانفرنس شعبہ تحقیقات کے نگراں کمیٹی کی طرف سے یہ یا کسی تحقیقاتی ادارے کے تعاون سے ہو۔

سالانہ آٹھ سے لیکر تیرہ یادگاری جلسہ پورے ملک میں اور دو سے لیکر پانچ یادگاری جلسہ ادارہ جامعۃ المصطفٰی کی نمائندگی میں منعقد ہوتے ہیں، اس یادگاری جلسہ  میں عصری علوم کے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔

          یہ یادگاری جلسے چار سطح پر منعقد پر ہوتے ہیں ۱۔ مدارس کی سطح پر ۲۔ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر  ۳۔ ملک گیر پیمانہ پر   ۴۔ بین الاقوامی سطح پر۔

ب:مشترکہ یادگاری جلسہ

          ادارہ جامعۃ المصطفی کا تحقیقاتی شعبہ بہت سارے یادگاری جلسہ کا انعقاد علوم انسانی اور مختلف اسلامی موضوعات کے اوپر حوزہ اور یونیورسٹی کی دوسری کمیٹیوں کے ساتھ مل کر انجام دیتاہے اس کے علاوہ ملک گیر پیمانہ پر بہت سے دوسرے یادگاری جلسوں میں اس کی شرکت قابل ذکر اور قابل ستایش ہے۔

نشست علمی اور تبادلہ خیال

          تعریف: برجستہ وصاحبان فکر و نظر افراد کا اجتماع کرکے ایک خاص موضوع پر گفتگو اور تقریر کے ذریعہ علمی راہ حل نکالنے نیز گول میز کانفرنس کی صورت میں نتیجہ خیز مقالہ پیش کرنے کو علمی نشست سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

          علمی نشست تحقیقاتی کمیٹیوں نیز تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ذریعہ منعقد ہوتی ہے۔ اس کی بھی تین سطح ہے

۱۔ایک گروہ اور ایک شعبہ کی سطح پر

 ۲۔ ایک مدسہ کی سطح پر

 ۳۔ مدرسہ کی سطح سے بالا تر ہو کر یعنی مختلف کمیٹیوں و گروہوں کے ساتھ ۔

          علمی نشست کے جلسات میں معمولا کی جانے والی تقاریر پر بحث و گفتگو کی جاتی ہے نیز سامعین و محققین اس موضوع سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہیں اور صاحبان نظر افرادایک گول میز کانفرس کی صورت میں اصل موضوع کے بارے میں جستجوو تحقیق کرتے ہیں ۔

          علمی مقابلے

          رجال شناسی، حدیث شناسی، کتاب شناسی اور دوسرے اسلامی موضوعات کی جستجو اور تحقیق کے عنوان سے طلاب و محققین کی دقیق اطلاعات و آگاہی کے لئے نیز جدید اعتراضات و شبہات کے جوابات سے آشناہونے کے لئے مدارس کے اندر علمی مقابلہ کے جلسات بھی منعقد ہوتے ہیں۔

شعبہ نشریات:

          جامعۃ المصطفی کے تحقیقاتی ادارے کا ایک شعبہ، شعبہ نشریات ہے کہ جو مذکورہ ادارے کی داخلی و خارجی فعالیت اور اس کی کارکردگی نیز اس کے چھوٹے بڑے منصوبے کو بسط و تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے نیز اس کے ذریعہ سے شعبہ نشریات کی کمیت اور کیفیت کو فروغ دینا بھی مقصود ہے ۔

چنانچہ اس شعبہ سے مربوط اب تک جو فعالیت انجام دی جاچکی ہے وہ مذکورہ تفصیلات سے عبارت ہے :         

          ۱۔ نشریات سے متعلق ایک جامع لائحہ عمل کی تصویب اور اس کی منظوری

          ۲۔ انجمن نشریات کے اساسنامہ کی تصویب اور اس کی منظوری

۳۔ایک ایسے آئین نامہ کی تصویب  کی جوشعبہ نشریات کے اوپر ناظر ہو

۴۔ شعبہ نشریات اور دس سے زیادہ رسالہ اور مجلہ کی بررسی و چھان بین

۵۔پورے  سال نشریات کی کمیت و کیفیت سے متعلق چھان بین

۶۔انجمن اہل قلم اور مدیران حضرات کے جلسہ کا قیام

۷۔ مستند اور جامع نشریات کے خد و خال کی تصویب اور اس کا قیام

جامعۃ المصطفی کے تحت چلنے والے تحقیقاتی مراکز

۱۔ تحقیقاتی مرکز:

          موجودہ دنیا میں تحقیق کی اہمیت کے پیش نظر اور دنیا کے علمی مراکز میں شعبہ تحقیقات کی ضرورت نے اس چیز کو یقینی بنایا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر علم و تحقیق کو فروغ دیاجائے چنانچہ اسی پہلو کے پیش نظر ادارہ جامعۃ المصطفیٰ نے عالمی سطح پر تحقیقاتی سنٹر اور مرکز قائم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اب تک اس نے کیی ممالک میں تحقیقاتی مرکز قایم کیے ہیں۔

          عصر حاضر میں ادارہ جامعۃ المصطفی نے ملک کے اندر بین الاقوامی سطح پر ایک تحقیقی سنٹر قائم کیا ہے اور بیرون ملک، لبنان ، گرجستان، جرمنی، ملیشیا، ہندوستان میں اس کے شعبہ موجود ہیں۔

۔ جامعۃ المصطفی انٹرنیشنل ریسرچ  سنٹر

۔ مرکزالحضارۃ لتنمیہ الفکر الاسلامی، لبنان

۔ مرکز مطالعات اسلام و مسیحیت، گرجستان

۔ مرکز پژوھشی امین ، ملیشیا

۲۔مطالعہ کی سہولت

          ادارہ جامعۃ المصطفی نے مطالعہ کی طرف رغبت اور دلچسپی پیدا کرنے کے لئے محققین اور علم دوست افراد کے لئے معارف اسلامی، مکتب اہل بیتؑ اور اسلامی موضوعات پر مطالعہ کی سہولت کے عنوان سے اساتیذ، علمی شخصیات، پروفیسر حضرات کہ جو فردی و اجتماعی ، سیاسی و ثقافتی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں بہت سارے ممالک سے آنے کی دعوت دی ہے مطالعہ کی مدت ایک مہینہ سے لیکر نو مہینہ تک کی ہے کسی خاص ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر یہ مدت ایک سال کےلئے توسیع ہوسکتی ہے، واضح رہے اس پورے دورے کے درمیان صرف ہونے والے اخراجات امیدوار کے ذمہ ہوں گے۔

مطالعہ کی  اس  فرصت سے استفادہ کرنے کے بعض شرائط یہ ہیں

۔ P.H.Dکی ڈگری ہو یا حوزہ کے درس خارج میں مشغول ہو

۔ یونیورسٹی