» English » فارسی
» Français » العربية
» русский » اردو
 
صفحه اصلي > ثقافتی اور ورزشی مقابلے 

جامعۃ المصطفی     ؐ کا شعبۂ تربیت بدنی( فیزیکل ٹریننگ کا شعبہ)"مرکز جہانی علوم اسلامی"‏(International Center for Islamic Studies)اور"سازمان حوزہ ھا و مدارس علمیہ خارج از کشور" کے قیام کےزمانے ہی سے اپنے کام کا آغاز محدود پیمانہ پر شروع کر چکا تھا اور ۱۳۸۲ہجری شمسی سے مرکز جہانی کے نیےچارٹ کے تحت تربیت بدنی(فزیکل ٹریننگ)کا ادارہ تشکیل دیا گیا۔

اھداف              

جامعۃ المصطفی   ؐ کاتربیت بدنی(فیزیکل ٹریننگ) اور جسمانی تندرستی کے شعبہ میں فعالیت کا اصلی اور مرکزی ہدف یہ ہے کہ طلاب کو جسمانی صحت اور سلامتی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے روحانی شادابی کا زمینہ ہموار کرنا  تاکہ بلندانسانی اقدار اور صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جا سکے۔اس شعبہ کے ذیلی اہداف کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔اسلام کے مطلوبہ ورزشی اور کھیل کود کے کلچرکو عام کرنا اور طلاب کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے لیےجگہ بنانا۔

۲۔معنوی اقدار کے حصول کے لیے ورزش کو وسیلہ بنا کر اس سے مناسب فایدہ اٹھانا۔

۳۔جسمانی سلامتی و تندرستی فراہم کرنا،جسمانی تواناییوں اور صلاحیتوں کی شناخت کرنا،اصولی طورطریقوں پر صحت و سلامتی فراہم کرنا۔

۴۔طلاب کے اندر جسمانی اعتبار سے تحرک اور نشاط  پیدا کرنا اور اسکی حفاظت کرنا۔ ان کی قوت کو صحیح سمت عطا کرتے ہوءے جد وجہد کاجذبہ بیدار کرنا۔

۵۔اللہ پر توکل ،خود اعتمادی ، جرات اور شہامت کو طلاب میں پروان چڑھانا تا کہ انسان ہونے کے ناطے وہ اپنی شخصیت کی حفاظت کر سکیں۔

 

پالیسیاں

۱۔اسلامی اور اخلاقی قوانین کی پابندی، جامعۃ المصطفی    ؐ کی روایات کی پاسبانی کے ساتھ ساتھ ہر شعبہ میں معنویت و روحانیت کی طرف خصوصی توجہ دینا۔

۲۔ ورزشی امور میں طلاب اور انکے خانوادے کی شرکت کےسلسلےکو فروغ دینااس تاکید کے ساتھ کہ ورزش سب کے لیے ہے۔

۳۔وہ کھیل جنکے سیکھنے کا فاءدہ زیادہ ہو اورجنکے سیکھنے پرخر چہ کم ہو ایسے کھیلوں کو سکھانے پر زور دیا جاے۔

۴۔طالبات اور شادی شدہ طلاب کے بیوی ،بچوں کی ورزش پر بھر پور زور دیا جاءے۔

۵۔ورزش کو عام کرنا۔

۶۔ورزشی میدانوں کے ماحول کو  ٹیموں کے تعصب سے پاک رکھتے ہوءے انہیں جھوٹے ہیجانات سے دور رکھا جاءے۔

۷۔جامعۃ المصطیٰ   ؐ کےتربیت بدنی( فیزیکل ٹریننگ) ادارہ کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے ملک میں موجود فیزیکل ٹریننگ کے علمی اوردیگر ورزشی مراکز سے استفادہ کرتے ہوءے ان کے ساتھ تال میل برقرار رکھنا۔

۸۔جامعۃ المصطفی  ؐ کے تعلیمی اور ثقافتی شعبوں کی سرگرمیوں کےپہلو بہ پہلو ورزش کواوزاری حیثیت کے حامل مددگارشعبہ کے عنوان سے نظر میں رکھنا۔

ترجیح اول کےکھیل( سبجکٹس )

ہمیشہ ایک اہم  ضرورت کے عنوان سےکھیلوں سے متعلق مختلف سبجکٹس کی پڑھاءی کی طرف توجہ دیتے ہوءے اس شعبہ کو ایک خصوصی حیثیت کا حامل بنانے کے لیےکوشش کی گءی۔اس درمیان مختلف ممالک کے ان طلاب کی صلاحیتوں سے استفادہ کا موقع ملا جو ان سبجکٹس کو پڑھا سکتے تھے۔

پڑھاءی کے سلسلے میں جامعۃ المصطفی  ؐ کی پہلی ترجیح میں موجود سبجکٹس کواستصواب کر کے بھجوادیا گیا۔

کھیل کی مختلف شاخوں کے نمایندے

تربیت بدنی(فزیکل ٹریننگ) کو فروغ دینے اور اسے عام کرنے میں تمام سبجکٹس میں جامعۃ المصطفی   ؐ کی پہلی ترجیح کے سلسلے میں بعض نمایندے جن میں طلاب ،جامعۃ المصطفی  ؐ کا عملہ یا اس شعبہ کے ماہرین نظر میں رکھے گءے جن کی بعض ذمہ داریاں یہ ہیں :

مستعد اور با صلاحیت طلاب کی شناندہی کرنا

معاشرہ کی ضرورت کے مطابق تال میل  کے ساتھ ریفریز اور کوچس کےٹریننگ کورسز کا انعقاد کرنا

جامعۃ المصطفی   ؐ کی ٹیمس بنا کر مناسب پریکٹس کے کیمپس منعقد کرنا

شمسی سال کے اعتبار سے ماہ مہر سے ماہ مہر تک کے کھیل کے پروگراموں کی ڈاءری تیار کرنا

کھیلوں کےمقابلے

ورزش جن مقاصد کے حصول  کی غرض سے کی جاتی ہے وہ یہ ہیں: مثبت رقابت کے جذبے کو پروان چڑھانا، کھیل کے میدان کے چیپینز کی پہچان(آیڈنٹفیکیشن) کرنا، تربیت بدن (فیزیکل ٹریننگ) کے متعلق زیادہ سے زیادہ جذبہ پیدا کرنا اور شادابی و نشاط کو قوت بخشنے کی خاطر دو طرح کے مقابلے منعقدکرنا (مختلف مناسبتوں کے لحاظ سے داخلی مقابلے) اور کیمپس کے دوران منعقد کیے جانے والے مقابلے۔

وہ مقابلے میں جو سارے جامعہ میں مرکزی (سنٹرلاءیزیڈ) پیمانہ پرمنعقد کیے جاتے ہیں وہ ثقافتی ورزشی مقابلے ہیں جو تمام طبقوں کے لیے ہوتے ہیں جو خاص اہمیت کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافت اور ورزش دو شعبوں میں  بٹے ہوتے ہیں۔ یہ مقابلے سال میں ایک بار طلباء اور ان کے اہل خانہ کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ورزش کے شعبہ میں تمام طبقوں میں سے داخلی‏(Internal)مقابلوں میں  ٹاپ پوزیشن لانے والے افراد کو چن کر فاینل مقابلوں کے لیے اس ادارہ کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے۔ ثقافتی شعبہ کے مقابلے ورزشی شعبہ کے مقابلوں کے ایک مہینہ بعد فوٹوگرافی، کارٹوننگ، ویب لاگ ڈیزایننگ  اورطنزنگاری جیسے میدانوں میں منعقد کیے جاتے ہیں جو ثقافتی شعبہ کی ہماہنگی کے ساتھ طوبیٰ فیسٹول کا مقدمہ قرار پاتے ہیں۔

اسپیشل کورسز

اسپیشل کورسز ،ادارہ تربیت بدنی و سلامت جسمانی(فیزیکل ٹریننگ شعبہ) کے اہم پرگراموں میں شامل ہےجو جامعۃ المصطفی  ؐ کے ترجیح دیے گیے کھیلوں کی شاخوں کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں طلاب اور ماہرین کھیل کود کی علمی اور ورزشی سطح کو بلند کرنے کے لیے اس ادارہ نے تیراکی،  ڈارٹ،فوٹبال وغیرہ میں ریفریز اور کوچس کےاسپیشل کورسز کا انتظام کیا ہے۔

کھیلوں کا کیپی ٹیشن (محصول فی کس)

کھیلوں کے کیپی ٹیشن میں کھیل کے میدان ،اسٹڈییمز (انڈور اور آؤٹ ڈور)اور کھیل کود کی سرگرمی شامل ہے۔ دوسرے اداروں اور یونیورسٹیز کےاسٹانڈرڈز کی بہ نسبت جامعۃ المصطفی  ؐ  کے کھیلوں کے کیپی ٹیشن کے اوسط میں بہت زیادہ فرق ہے۔ایران میں یونیورسٹیز کے انڈور اور آؤٹ ڈور اسٹیڈییمز کا اسٹانڈرڈ ۲/۸ مربع میٹر کے مرادف ہے جبکہ جامعۃ المصطفی  ؐ کے کھیل کے میدان آؤٹ آف اسٹانڈرڈ میدانوں کو ملا کر ۰/۲ مربع میٹر ہے۔ اس حساب سے جامعۃ المصطفی ؐ قومی اسٹانڈرڈ سے ۲/۶ مربع میٹر پیچھے ہے۔ یونیورسیٹیز میں کھیلوں کی سرگرمی کا کیپی ٹیشن ۳۵۰۰۰۰ ریال ہے اور یہ کیپی ٹیشن جامعۃ المصطفی  ؐ میں اوسطاً ۳۵۰۰۰ ریال ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جامعۃ المصطفی  ؐ یہ رقم قومی سطح سے دس گنا فرق رکھتی ہے ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ جامعۃ المصطفی  ؐ کا یونورسٹیز کے مقابلہ میں جو کیپی ٹیشن ہے اس میں کافی فرق ہے۔

فیزیکل ٹریننگ کی پڑھائٰی کے یونٹس

فیزیکل ٹریننگ ڈپارٹمنٹ کا پڑھائی لکھائی کے ڈپارٹمنٹ سے مختلف جسمانی سلامتی کے سبجکٹس میں تال میل اسٹنانڈرڈ طریقہ سے منظم کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں جامعۃ المصطفی  ؐ نے انٹرمیڈئیٹ(کاردانی) سے اجتہاد تک تھیوری اور پریکٹیکل سبجکٹس کے علاوہ مختلف جسمانی سلامت کے ٹیسٹس کروانا فیزیکل ٹریننگ ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔

ذمہ داریاں

شیڈیول مرتب کرنا

حمایت

نظارت

فیڈ بیک

فیزیکل ٹریننگ کے لئے اسپیشل کمیشنز بنانا

آخری بات

آخر میں یہ فیزیکل ٹریننگ کا یہ ادارہ جسمانی سلامتی اور فیزیکل ٹریننگ  کے شعبہ میں "اسلام میں ورزش ، غذائیات، ورزش، فیزیوتھراپی "وغیرہ  جیسے موضوعات میں مشورے سننے کا اعلان کرتا ہے۔